Tuesday, May 19, 2015

عارضی ای میل ایڈریس بنائیں

اس ویب سائٹ کا دل چسپ فیچر عارضی فون نمبرز فراہم کرنا ہے فوٹو : فائل
 کراچی: انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے روزانہ ہی کہیں نہ کہیں سائن اپ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آپ اپنا اہم ای میل ایڈریس ہر جگہ دیتے رہیں تو میل باکس میں فالتو ای میلز کی بھرمار ہو جاتی ہیں۔ اکثر تو ایسی جگہوں پر اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے جہاں صرف عارضی طور پر اکاؤنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے کام کے بعد ہم اس ویب سائٹ کا رْخ ہی نہیں کرتے، لیکن ان کی طرف سے ای میلز باقاعدگی سے آتی رہتی ہیں۔ ایسی عارضی جگہوں پر اکاؤنٹ بنانے کے لیے ای میل ایڈریس بھی عارضی ہو تو کیا حرج ہے۔ عارضی ای میل ایڈریس بنانے کے لیے ’’یوپ میل‘‘ ایک بہترین سروس ہے:
www.yopmail. com/enلیکن ہم یہاں ذکر کریں گے Moakt کا، کیوںکہ یہاں عارضی ای میلز ایڈریس کے ساتھ ساتھ عارضی فون نمبرز بھی دست یاب ہیں۔ آج کل اکثر جگہوں پر فون نمبر کی تصدیق کرانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی چیٹ پروگرام کو استعمال کرنا چاہتے ہیں جس میں فون نمبر استعمال ہوتا ہو تو تصدیق کے لیے عارضی فون نمبر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مزے دار بات یہ ہے کہ یہاں اکاؤنٹ بنانے کا بھی کوئی جھنجٹ نہیں۔ بس اس ربط پر جائیے:
www.moakt.com
یہاں آپ moakt.com کے ڈومین پر اپنا عارضی ای میل ایڈریس جیسے کہcomputingpk@moakt.com بنا سکتے ہیں یا چاہیں تو نیچے موجود بٹن Get a Random Address کے بٹن پر کلک کریں اور ایک ریڈی میڈ ای میل ایڈریس فوری حاصل کریں۔
یہ عارضی بنایا گیا ای میل ایڈریس 60 منٹ یعنی ایک گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔ اگر آپ کو مزید اس کی ضرورت رہے تو اس کے سامنے موجود Extend کے بٹن پر کلک کریں تو یہ دورانیہ فوراً ایک گھنٹہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کو کوئی الگ میل باکس نہیں فراہم کیا جائے گا، جہاں آپ کی ای میلز محفوظ رہیں بل کہ یہاں ساری ای میلز سامنے ہی موجود ہوتی ہیں۔ آپ کو اپنی ای میل پر نظر رکھنی ہوتی ہے۔
اس ویب سائٹ کا دل چسپ فیچر عارضی فون نمبرز فراہم کرنا ہے۔ ان نمبرز پر صرف ایس ایم ایس موصول کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا یہ سسٹم بہت دل چسپ ہے۔ دراصل اس ویب سائٹ پر آٹھ مختلف نمبرز دیے گئے ہیں جن میں سے آپ جو چاہیں استعمال کر سکتے ہیں۔
ان نمبرز پر موصول ہونے والے ایس ایم ایس ان نمبرز کے سامنے جمع ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں آپ جس نمبر کے چاہیں ایس ایم ایس دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ نے ان میں سے کوئی نمبر استعمال کیا ہے تو اس کا ایس ایم ایس بھی یہاں موجود ہو گا جس میں موجود ویری فکیشن کوڈ آپ نوٹ کر سکتے ہیں۔
یقیناً آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ یہاں پرائیویسی بالکل بھی نہیں ہے۔ اس لیے ان عارضی سروسز کو صرف عارضی کاموں کے لیے ہی استعمال کریں۔ اگر آپ نے کوئی اہم اکاؤنٹ بنانے کے لیے کوئی فون نمبر استعمال کر لیا تو کوئی بھی اس نمبر کو استعمال کرتے ہوئے آپ کا اکاؤنٹ بہ آسانی ہیک بھی کر سکتا ہے۔

Tuesday, April 14, 2015

انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کیسے کمائیں

فری لانسنگ - تفصیلی جائزہ


یہ سوال اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ممکن ہے؟ یا پھر یہ ایک فراڈ ہے؟اس سوال کا جواب اس بات منحصر ہے کہ آپ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا کیسے چاہتے ہیں۔ اگر تو آپ یہ چاہتے ہیںکہ بغیر محنت کے چند گھنٹوں میں آپ سینکڑوں ڈالر کما لیں گے تو یقینا ایسا ممکن نہیں ہے۔

Friday, February 13, 2015

Truecaller




ٹروکالر ایپلی کیشن کیسے کام کرتی ہے؟
پہلی دفعہ جب ’’ٹرو کالر‘‘ (Truecaller) 
ایپلی کیشن کے بارے میں سنا تو بڑی حیرت ہوئی۔ کیونکہ اپنے دعووں کے اعتبار سے یہ ایک حیرت انگیز ایپلی کیشن ہے۔ وہ اس طرح کہ کوئی ایسا نمبر جو آپ کی فون بک میں موجود نہ ہو، اس نمبر سے کال آنے پر بھی کال کرنے والے کا نام لکھا آرہا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا سب سے حیرت انگیز فیچر اس کے ذریعے نمبر تلاش کرنا ہے۔ یعنی آپ کسی کا بھی نام لکھ کر اُس کا نمبر تلاش کر سکتے ہیں۔
ٹرو کالر اپنے آپ کو ’’گلوبل فون ڈائریکٹری‘‘ کہتی ہے۔ یہ ایپلی کیشن ایک سویڈش کمپنی کی بنائی ہوئی ہے۔ جس کے پاس کئی ممالک کے فون نمبرز (موبائل اور لینڈ لائن) کا بہت بڑا ڈیٹا بیس موجود ہے۔ ان میں پاکستان، انڈیا، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، لبنان، کویت اردن کے علاوہ کئی ممالک شامل ہیں۔ ٹروکالر کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا بیس پبلک ذرائع جیسے کہ یلو /وائٹ پیجز، او ایل ایکس اور دیگر ویب سائٹس سے پارٹنر شپ کے تحت حاصل کیے گئے نمبرز سے بنایا گیا ہے۔ او ایل ایکس ہو، جابز حاصل کرنے والی ویب سائٹس یا دیگر آن لائن فورمز لوگوں نے سب جگہ اپنی تفصیلات خود ہی ڈالنا شروع کر رکھی ہیں۔ اس لیے ٹروکالر کا کہنا ہے کہ وہ ڈیٹا اسکرپنگ کے ذریعے آن لائن ذرائع سے یہ نمبر تلاش کر کے اپنے ڈیٹا بیس میں شامل کرتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے۔
جب آپ کسی کا بھی نام لکھ کر اس کا نمبر تلاش کر سکتے ہوں، نامعلوم نمبرز سے آنے والی کالز پر بھی پتا چل جائے کہ نمبر کس کا ہے، اسپیم کالز سے آپ بچ سکیں گے اور اپنی بلیک لسٹ بنا کر کالز بلاک بھی کر سکیں۔ سب سے بڑھ کر ایپلی کیشن مفت ہو اسے کون استعمال نہیں کرے گا؟
یہ ایپلی کیشن آئی او ایس، اینڈرائیڈ، ونڈوز ، سیمبیان اور بلیک بیری فونز کے لیے دستیاب ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایپلی کیشن انتہائی مشہور ہوئی اور آج اس کے کروڑوں صارفین ہیں۔ صارفین کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا ڈیٹا بیس بھی وسیع تر ہوتا گیا جس نے پرائیویسی کے شدید خدشات پیدا کر دیے۔ انڈیا میں تو کئی بڑے اور مشہور لوگوں کے نمبرز اس کے ذریعے منظر عام پر آئے۔
اگرچہ اس کے فری ورژن میں سب کچھ موجود ہے لیکن اس ایپلی کیشن کے مکمل فیچرز استعمال کرنے کے لیے لوگوں نے اسے خریدنا بھی شروع کر دیا۔ اس کی مانگ اتنی بڑھی کہ ایپل کے ایپلی کیشن اسٹور پر پریمیئم ایپلی کیشنز کی لسٹ میں یہ پہلے نمبر پر آ گئی۔ اپنے ان مشکوک فیچرز کی بنا پر ایپلی کیشن بنانے والی کمپنی مالا مال ہو گئی۔
ٹروکالر نے نمبر سے نام تلاش کرنے کا فیچر اپنی ویب سائٹ پر بھی فراہم کر رکھا ہے۔
www.truecaller.com
truecaller-find-number
اس کی ویب سائٹ پر جا کر آپ کوئی بھی نمبر لکھ کر دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کس کا نمبر ہے۔ اگر نمبر اس کے ڈیٹا بیس میں موجود ہوا تو آپ کو بتا دیا جائے گا۔ نمبر دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان کی ویب سائٹ پر بذریعہ فیس بک، یاہو، گوگل، ٹوئٹر یا لنکڈاِن لاگ اِن ہوں۔

ٹرو کالر ڈیٹا بیس کیسے بنایا گیا؟

جب آپ اس کے ڈیٹا بیس میں اپنا اور اپنے دوستوں کا نمبر دیکھیں گے تو ضرور سوچیں گے کہ ہمارا نمبر تو کہیں آن لائن موجود نہیں پھر اس کے ڈیٹا بیس میں کیسے آیا؟ ٹرو کالر کی جانب سے تو صفائیاں پیش کی جاتی ہیں کہ یہ کوئی غیر قانونی ذریعہ استعمال نہیں کرتے لیکن عام خیال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ ایپلی کیشن فون پر انسٹال ہونے کے بعد مکمل فون بُک کو اپنے سرور پر اپ لوڈ کر دیتی ہے۔
چونکہ لوگ دوسروں کے نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں، اسپیم کالز سے بچنا چاہتے ہیں اس لیے ہر آئے دن اس ایپلی کیشن کے صارفین کی تعداد میں ہزاروں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے اس کا ڈیٹا بیس نہ صرف تیزی سے بڑھ رہا ہے بلکہ درست بھی ہو رہا ہے۔ جب ایک نمبر کئی لوگوں کے پاس ایک ہی نام سے محفوظ ہوتا ہے تو اس کا سسٹم جان لیتا ہے کہ یہ فون نمبر کس کا ہے۔ یہی طریقہ استعمال کرتے ہوئے آج ’’ٹروکالر‘‘ واقعی ایک بہت بڑی گلوبل فون ڈائریکٹری بن چکی ہے۔
اگر کسی کی فون بک میں آپ کا نمبر محفوظ ہے اور وہ یہ ایپلی کیشن انسٹال کرتا ہے تو ٹروکالر کے پاس آپ کا نام اور نمبر موجود ہے۔ یعنی آپ یہ ایپلی کیشن استعمال کریں نہ کریں، اس کے ڈیٹا بیس میں آپ کا نمبر ہو سکتا ہے۔
آپ کسی کو کال کرتے ہوئے یہ نہیں سوچ سکتے کہ آپ نامعلوم رہیں گے۔ اس کے علاوہ آپ اپنا نمبر بھی محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ کوئی بھی یہ ایپلی کیشن استعمال کرتے ہوئے آپ کا نمبر تلاش کر سکتا ہے۔ اس ایپلی کیشن کے کام کرنے کا یہ طریقہ کار سب کی پرائیویسی کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے۔
چونکہ لوگوں نے دوسروں کے نام یاددہانی یا اپنی آسانی کی خاطر مختلف ناموں سے محفوظ کر رکھے ہوتے ہیں اس لیے ایسے نمبرز تلاش کرنے پر ویسا ہی نام آتا ہے مثلاً اسلم انکل، علی کمپیوٹنگ وغیرہ۔ اس بات سے یہ گمان پختہ ہو جاتا ہے کہ یہ ایپلی کیشن لوگوں کی فون بک چوری کرنے میں مصروف ہے۔
ٹروکالر صرف فون بک ہی نہیں کئی طرح سے لوگوں کا ڈیٹا ہتھیانے میں مصروف ہے۔ مثلاً پہلی دفعہ ایپلی کیشن استعمال کرتے ہوئے خود کو ویری فائی کروانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کہتے ہیں کہ اگر ٹروکالر ڈائریکٹری میں آپ کا نام درست نہیں آرہا تھے اسے آپ اس یورآر ایل پر جا کر درست کرنے کی درخواست ارسال کر سکتے ہیں:
www.truecaller.com/name-suggestion
یعنی ان کاڈیٹا بیس درست کرنے میں خود ان کی مدد کریں!

truecaller_com_name-suggestion
اس کے علاوہ اگر آپ ان کی ڈائریکٹری سے اپنا نمبر حذف کرانا چاہیں تو یہاں درخواست دے سکتے ہیں:
www.truecaller.com/unlist
truecaller-unlist-number
اس کے علاوہ ٹروکالر پر پروفائل بھی بنائی جا سکتی ہے۔ اس طرح اگر کوئی آپ کے نام سے تلاش کر کے نمبر حاصل کرنا چاہے تو پہلے آپ کی اجازت درکار ہو گی۔ آپ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے لوگوں نے آپ کی پروفائل دیکھی۔ اس کے علاوہ فیس بک کی طرح یہ آپ کو وہ لوگ بھی دکھاتا ہے جن کو آپ شاید جانتے ہوں۔ اس طرح آپ ان سے بھی رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔

اختتامیہ

اس ری ویو کا مقصد آپ کو اس مشکوک ایپلی کیشن کے کام کرنے کا طریقہ کار واضح کرنا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ٹروکالر کے سرور پر ہیکرز کا حملہ بھی ہو چکا ہے۔ ہیکرز نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ٹروکالر کے سرور سے چار جی سے زائد ڈیٹا چُرا لیا ہے جس میں لوگوں کے فون نمبرز کے ساتھ ساتھ ای میل اور فیس بک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی موجود ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ نہ اس ایپلی کیشن کو خود انسٹال کریں اور نہ ہی دوسروں کو مشورہ دیں۔ ایک دوسرے کی پرائیویسی کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔

(یہ تحریر کمپیوٹنگ شمارہ نومبر 2013 میں شائع ہوئی)

Tuesday, January 27, 2015

چھلی والا

وہ چھلی والا اب سبزی کی ریڑھی لگاتا ہے ۔ جس نے اپنے بچوں کو چھلیاں خرید کر نہ دے سکنے پر دوسرے بچوں کے لئے چھلی کی قیمت دس روپے لگائی تھی جب کہ ارد گرد بیس روپے کی چھلی فروخت ہو رہی تھی ۔
چند روز قبل میں یونہی چلتے چلتے اس چھلی والے کے سامنے رک گیا ۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھا ریڑھی پر دو تین لوگ سبزی خرید رہے تھے ۔ میں دیکھتا رہا ، ایک خاتون نے اس سے آلو خریدے ، ساتھ دھنیا مرچ بھی لی اور اسے پچاس کا نوٹ دیا اس نے آلو کے ساتھ از خود دھنیا مرچ مفت دی ۔
وہ آلو اٹھا کر پہلے یوں دیکھتا جیسے اس کا ایکسرے کر رہا ہو۔ گاہک کی نظر سے سبزی کو دیکھنا دوکاندار کے معاشی مفادات کے خلاف جاتا ہے لیکن وہ ہر ہر آلو کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اسے شاپنگ بیگ میں ڈالتا جا رہا تھا ۔ جس آلو پر کوئی معمولی ساداغ بھی ہوتا اسے ایک طرف کر دیتا ۔ جو آلو ٹھیک ہوتا صرف اسے ڈالتا ۔
اسی طرح ایک اور شخص نے ٹماٹر لیئے اس نے ٹماٹر بھی ویسے ہی دیکھ بھال کر اچھے اچھے دیئے ، اور معمولی نوعیت کی خرابی بھی اگر کسی ٹماٹر میں اسے محسوس ہوئی تو اسے ایک طرف کر دیا ۔ حالانکہ اس خرابی کو گاہک بھی تلاش نہ کرپاتا ۔
جب گاہک رخصت ہو چکے تو میں نے اس سے کہا کہ آپ ریڑھی مین روڈ پر کیوں نہیں لگاتے یہاں سائیڈ پر اور وہ بھی نسبتاً ایک ویران جگہ کا انتخاب آپ نے کیوں کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ مین روڈ پر ریڑھی کھڑی نہیں کرنے دی جاتی اور مختلف ٹیکسوں کی صورت میں اچھے خاصے اخراجات ہو جاتے ہیں۔ یہاں ویران جگہ ہے یہاں کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا اگر کسی دوکان کے سامنے لگاؤں تو پھر کرایہ الگ سے دینا پڑے گا ۔ یہاں کھڑا ہوں بس اللہ سے حلال رزق مانگتا ہوں تا کہ بچوں کے پیٹ کو حرام لقمے سے بچا سکوں ۔
میں نے اگلا سوال کیا کہ آپ کا اس ریڑھی کے علاوہ بھی کوئی ذریعہ آمدن ہے؟ اس نے کہا صبح منڈی میں کام کرتا ہوں گاڑیوں سے سبزی وغیرہ اتارتا ہوں ۔ صبح سویرے اس کام سے فارغ ہو کر اپنے لئے سبزی لیتا ہوں اور دن کو اس ریڑھی پر فروخت کر دیتا ہوں ۔ پچھلے سیزن میں مونگ پھلی لگا رکھی تھی اس سے پہلے ایک مرتبہ چھلی لگائی تھی ۔ رات کو ریڑھی گھر لے جا کرکھڑی کر دیتا ہوں ۔
میں نے پوچھا کہ اس قلیل آمدنی میں گزارا ہو جاتا ہے؟ اس نے کہا کہ قسم لے لیں اگر میں دس بیس روپے بھی شام کو گھر لے کر جاتا ہوں تو مذید پیسے آنے تک وہ مجھ سے ختم نہیں ہوتے ۔ خواہ مزید پیسے کتنے ہی دن بعد کیوں نہ آئیں ۔ اور کسی چیز کی قلت بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر بھی ادا کروں کم ہے، وہ مجھ ناچیز کو بھی رزق دے رہا ہے ۔
میں نے پوچھا کہ یہ خراب آلو اور ٹماٹروں کا آپ کیا کرتے ہیں؟ اس نے کہا کہ یہ میں خود اور اپنے گھر والوں کو کھلاتا ہوں ۔ کسی گاہک کونہیں دیتا ۔ اس سے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری بھی نہیں ہوتی اور میں بھی حرام کھانے سے بچ جاتا ہوں۔
میں اس کے سراپے کا جائزہ لینے لگا تو میری نظر اس کے کپڑوں پر لگے پیوند پر جا کر رک گئی ، اس نے کپڑوں پر پیوند لگا رکھے تھے جنہیں خود سوئی دھاگہ لے کر سیا گیا تھا لگتا یوں تھا کہ کپڑے صاف مگر انتہائی بوسیدہ ہیں ۔ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں اس پیوند کو دیکھ لیا اور مسکرا کر کہنے لگا ۔ بھائی سچ کہوں، اگر ہم جیسے اس دنیا میں نہ ہوں تو رب کے حبیب ﷺکی اس سنت کو کون زندہ رکھے گا؟ اس نے یہ بات پیوند لگی جگہ کو ہاتھ میں پکڑ کر کہی ۔ میرے ليے ضبط مشکل ہو رہا تھا، میں نے سگریٹ سلگایا اور بوجھل قدموں سے دفتر کی جانب چل پڑا ۔ میرا دماغ الجھ کر رہ گیا ۔
میرا دل گواہی دینے لگا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺکی ہر ہر سنت کو زندہ رکھنے پر قادر ہے ۔ مجھے وہ سارے فلسفے اس چھلی والے کے پیوند لگے کپڑوں سے بھی بودے لگنے لگے جن میں کہا جاتا ہےکہ اگر تم پیدا ہوتے وقت دولت مند نہیں تھے تو اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں اگر تم مرتے وقت دولتمند نہیں ہو تو اس میں ضرور تمہاری غلطی ہے ۔ اس چھلی والے نے اپنے کردار سے اس ساری فلاسفی کو ایک لایعنی مفروضہ بنا ڈالا ۔
میں سوچتا رہ گیا ۔ اس دور میں بھی پیوند لگے کپڑے پہننے والا مجھ سے بہت بلند اور عظیم تھا ، اس کے کپڑوں کے پیوند اس کے لئے نہیں مجھے اپنے ليے آزمائش لگنے لگے ۔ ان بوسیدہ کپڑوں سے اس چھلی والے کو نہیں، بلکہ ہم سب کو آزمایا جا رہا ہے جن کے کپڑوں پر کوئی پیوند نہیں لگا ہوا۔ یہ پیوند لگانے والے کے نہیں بلکہ ان معاشی فلاسفروں کے منہ پر طمانچہ ہے جو دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذمہ دار بھی ہیں اور کمزور طبقات کا دھڑلے سے استحصال بھی کرتے ہیں ۔
اس ریڑھی والے کی طرح اگر کامل یقین سے کوئی غربت کا عذاب خاموشی سے سہہ رہا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول نبی کریم ﷺ کے معلمانہ اور کریمانہ اخلاق کے وسیلے سے اتنی قوت برداشت دی ہوئی ہے ۔ ورنہ وہ کبھی کا اخلاقی قدروں پر سمجھوتہ کر چکا ہوتا ۔
یہاں سید مودودی کا بیان بھی یاد کروا دیتے ہیں انہوں نے کارل مارکس کے کمیونزم پر تنقيد کرتے ہوئے ایک مقام پر کہا ہے کہ تاریخ کا دھارا کبھی دولت مندوں نے تبدیل نہیں کیا ۔ جب بھی تاریخی انقلاب یا کوئی بڑی مثبت تبدیلی آئی ہے تو وہ بوریانشینوں کی وجہ سے آئی ، کارل مارکس کا عمل ہی کارل مارکس کی معاشی تھیوری کی نفی کے لیئے کافی ہے ۔ اپنی فلاسفی میں مارکس نے انسانی زندگی کی جدجہد کا اولین اور بنیادی مقصد معیشت کو قرار دیا لیکن عملی زندگی میں کارل مارکس نے معیشت کو مستحکم بنانے کے بجائے غربت کا انتخاب کیا ۔ کارل مارکس کوئی ریڑھی بان نہیں تھا بلکہ جرمن پارلیمنٹ میں جاگیرداروں کے نمائندے کا داماد تھا اس نے فلسفے میں پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کر رکھی تھی ۔
یہ ضرور ہے کہ اکثر انسانوں کے پیش نظر معاشی استحکام بنیادی ترجیح ہوتی ہے لیکن ان کا تاریخ میں اتنا شاندار کردار نہیں ہوتا جتنے شاندار کردار فقر تخلیق کرتا ہے ۔
اختتام پر ایک مغربی مفکر کا قول پیش کرتے ہیں غالباً گوئٹے نے کہا تھا کہ اگر تم کسی کے پاس دو کوٹ دیکھو تو جان لو کہ دوسرا کوٹ اس شخص کا ہے جس کے پاس کوئی کوٹ نہیں

Saturday, September 6, 2014

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی:
--------------------------------

دنیا کا ذہین ترین انسان آئن سٹائن بچپن میں دماغ طور پر ایک کمزور انسان تھا، اُس کا سر موٹا اور زبان بولنے کی صلاحیت سے محروم تھی، بڑی مشکل سے کچھ الفاظ اٹک اٹک کر بولتا تھا جو بعض اوقات اُس کی ماں کو بھی سمجھ نہیں آتے تھے، کہا جاتا ہے کہ آئن سٹائن ’’آٹزم‘‘ کی بیماری میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں گم رہتا تھا اوراپنے معمولات میں کسی کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا تھا،9 سال کی عمر تک وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم رہا، تب اچانک ایک دن کھانے کی میز پر جب اُس کے سامنے سوپ رکھا گیا تو اُس نے سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا’’سوپ بہت گرم ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس کے والدین اچھل پڑے، خوشی سے بے حال ماں نے آئن سٹائن سے پوچھا کہ ایسے الفاظ تم نے کبھی پہلے کیوں نہیں بولے؟؟؟آئن سٹائن کا جواب تھا ’’اِس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی اس لیے میں نہیں بولتا تھا‘‘۔اُس نے دوسری شادی مالیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا،آئن سٹائن کے کمرے ، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتوچیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو، بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا اورآخری شرط یہ تھی کہ ہمارے درمیان کچھ ضروری تعلقات کے علاوہ اور کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔ !!!ماشاء اللہ! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔

بیوی: آئن۔۔۔ وے آئن۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔ کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔ جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔ تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔ آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع دور۔۔۔ جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔ نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔ سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ ہائے۔۔۔ شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔ اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔ !!!
بیوی: عورت اگر واہیاتی پر اُتر آئے تو ورلڈ ریکار ڈ بنانے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہے؟
آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔ ایسے سوال مت پوچھو، میں آئن سٹائن ہوں، وینا ملک نہیں۔۔۔ !!!
بیوی: وے یہ تو بڑا آسان سا سوال تھا۔۔۔ چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔ روندا سائنس نوں۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔ پلیز جان۔۔۔ اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے

میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ۔۔۔ جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔ !!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔ !!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ ایسے تو نہ کہو۔۔۔ میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔ !!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔ وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔ تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔ وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔ یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔ میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔ !!

بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔ تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کروں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔ میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ توہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔ آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔ !!!

'' بھلائی کے کام آدمی کو بری موت سے بچاتے ہیں۔''

سعودی عرب کے رہائشی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا تھا اس فون نمبر پر رابطہ کرو اور فلاں شخص کو عمرہ کراوٴ۔ فون نمبر بڑا واضح تھا۔ نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا مگر اس نے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کردیا۔ تین دن مسلسل ایک ہی خواب نظر آنے کے بعد وہ شخص محلے کی مسجد کے امام کے پاس گیا اور اسے بتایا: امام مسجد نے کہا فون نمبر یاد ہے تو پھر اس شخص سے رابطہ کرو اور اسے عمرہ کروا دو۔
اگلے روز اس شخص نے خواب میں بتلایا ہوا نمبر ڈائل کیا ، جس شخص نے فون اٹھایا اس سے ضروری تعارف کے بعد اس نے کہا: مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرواوٴں ، لہذا میں اس نیک کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں ۔ جس آدمی کو اس نے فون کیا وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا کونسے عمرہ کی بات کرتے ہو؟ میں نےتو مدت ہوئی کبھی فرض نماز بھی ادا نہیں کی اور تم کہتے ہو کہ تم مجھے عمرہ کروانا چاہتے ہو....!!
جس شخص نے خواب دیکھا تھا وہ اس سے اصرار کرنے لگا۔ اسے سمجھایا کہ ... میرے بھائی ! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں ، سارا خرچ میرا ہوگا۔ خاصی بحث اور تمہید کے بعد آدمی اس شرط پر رضامند ہوا کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کرونگا مگر تم مجھے وآپس ریاض میرے گھر لیکر آوٴ گے اور تمام تر اخرجات تمہارے ہی ذمہ ہونگے......
وقتِ مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو خواب والے شخص نے دیکھا کہ واقعی وہ شکل وصورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جسے عمرہ کرنے کے لئے خواب میں تین مرتبہ کہا گیا...
دونوں شخص مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کرکے احرام باندھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے بیت اللّٰہ کا طواف کیا ۔ مقامِ ابرہیم پر دو رکعت نمازادا کی، صفا و مرہ کے درمیان سعی کی ۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اسطرح عمرہ مکمل ہوگیا۔
اب انھوں نے واپسی کی تیاری شروع کردی ۔ حرم سے نکلنے لگے تو وہ شخص جو بہت کوشش سے عمرہ کرنے پر آمادہ ہوا تھا کہنے لگا: '' دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں ، نجانے دوبارہ عمرہ کی توفیق ہوتی بھی ہے یا نہیں ۔''
اسے کیا اعتراض ہوتا اس نے کہا: '' نفل پڑھو اور بڑے شوق سے پڑھو۔ اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ جب سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا .....
جب کافی دیر گزرگئی تو اس کے دوست نے اسے ہلایا ... جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھی کی روح حالتِ سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی....
اپنے ساتھی کی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ روپڑا کہ یہ تو حسنِ خاتمہ ہے، کاش ! ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی، ایسی موت تو ہر کسی کونصیب ہو،وہ اپنے آپ سے ہی یہ باتیں کر رہا تھا......
اس خوش قسمت انسان کو غسل دیا گیا، اور احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں فرزندان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی.....
اس دوران اس کی وفات کی اطلاع ریاض اسکے گھروالوں کو دی جاچکی تھی، خواب دیکھنے والے شخص نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا،جہاں اسے دفن کر دیا گیا....
چند ایام گزرنے کے بعد خواب دیکھنے والے شخص نے اس فوت ہونے والے کی بیوہ کو فون کیا۔ تعزیت کے بعد اس نے کہا : '' میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے شوہر کی ایسی کونسی نیکی یا عادت تھی کہ اس کا انجام اسقدر عمدہ ہوا۔ اسے حرمِ کعبہ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی.....
بیوہ نے کہا: بھائی تم درست کہتے ہو میرا خاوند کوئی اچھا آدمی نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نماز روزہ بھی چھوڑ رکھا تھا۔ اور شراب پینے کا عادی تھا، میں اسکی کوئی خاص خوبی بیان تو نہیں کرسکتی .... ہاں ! مگر اس کی ایک عادت یہ تھی کہ ''وہ ہمارے ہمسایہ میں ایک غریب بیوہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیساتھ رہتی ہے، ''میرا شوہر روزانہ بازار جاتا تو جہاں اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں لاتا وہ اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کیلئے بھی لے آتا، اور اس کے دروازے پر رکھ کر اسے آواز دیتا کہ میں نے کھاناباہر رکھ دیا ہے، اسے اٹھا لو۔ ''
یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور ساتھ میرے خاوند کے لئے دعا کرتی:
'' اللّٰہ تمہارا خاتمہ بالخیر کرے''
قارئینِ کرام اسطرح اس بیوہ کی دعا اللّٰہ تعالٰی نے قبول فرمالی۔ اور اس شرابی کا اتنے عمدہ طریقے پر خاتمہ ہوا کہ اس پر ہر مسلمان کو رشک آتا ہے۔
قارئینِ کرام اس بات کو ہمیشہ یاد رکھئے کہ اللّٰہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ.....
'' بھلائی کے کام آدمی کو بری موت سے بچاتے ہیں۔''
('دعاوٴں کی قبولیت کے سنہرے واقعات'' سے ماخوذ)

انٹرنیٹ کے زریعے جیون ساتھی چننے والوں کے لئے ایک مختصر تحریر

آج انٹرنیٹ،سٹلایٹ ٹیلیویزن،موبائل فون کا استعمال عام ہے اور ان سب اشیاء تک نوجوان نسل کی پہنچ بہت آسان ہو گئی ہے. ماں باپ نے اپنی اولاد تک ان سب آسائشوں کی فراہمی کو بے حد آسان کر دیا ہے اور پھر مستزاد یہ کہ کسی قسم کی نگرانی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے

کہ انکی اولاد ان زرائع کا کی ساتھ استعمال کر رہی ہے. نتیجہ یہ نکلتا ہے جب بات بگڑ جاتی ہے اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آنکھ تو کھلی مگر بہت تاخیر سے. سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آنے سے کیا فائدہ. سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے سانپ تو واپس آنے سے رہا.

میں نے انٹرنیٹ کے زریعے اخلاقی زوال کے بہت سے قصے پڑھے ہیں جن کا شکار ہونے والی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جنکی بربادی کی داستانیں چیٹنگ، پال ٹاکس وغیرہ جیسی ویب سائٹس سے شروع ہوکرنہ جانے پستی کی کن گھاٹیوں میں اختتام پذیر ہوتی ہیں.

عموما ان چیٹنگ سائٹس پر معصوم بھیڑ کے روپ میں اپنا تعارف کرانے والے جنس پرست نوجوان سادہ اور بھولی بھالی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ اپنے مکروفریب کے جال میں پھانس کر یکایک بھڑیے بن جاتے ہیں اور انہیں موقع ملتے ہی بیدردی سے نوچ کھسوٹ کر تباہی اوربربادی کے تاریک گڑہوں میں دھکیل دیتے ہیں

جہاں اکثر اوقات ان کے لئے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا.اسکے علاوہ ان داستانوں میں ان لوگوں کے لئےبھی ایک سبق موجود ہے جو انٹرنیٹ کے زریعے شادی کرنا چاہتے ہیں.اس میں بہت دھوکے ہوتے ہیں. دوسرے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا شخص یا خاتون جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے متعلق غلط بیانی سے کام لیکر اور حقائق کو چھپا کر شادی کرلیتے ہیں اور جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تو پچھتاوے اور عمر بھر آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا .

اس کا زیادہ تر شکار لڑکیاں ہوتی ہیں.اگر آپ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں تو سامنے والے فریق کے متعلق معلومات مہیا کر سکتے ہیں مگر سرحدوں کے پار بسنے والے کسی بھی ایسے شخص سے متعلق جس سے آپکی جان پہچان صرف انٹرنیٹ پر ہوئی ہے ، درست معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے اور اسی لئے اس چینل کے زریعے ہونے والی شادیاں عموما جلد ہی اپنے منطقی انجام یعنی طلاق پر منتج ہوتی ہیں.

لہذا اس بات سے بھی بچنا چاہیے اور شادی بیاہ کے لئے مروجہ اصولوں کو بروئے کار لانا چاہئے، خصوصا لڑکیوں کو اس قسم کے جال سے بچنا چاہئے اور اپنے ماں باپ کی مرضی اور رضا کے مطابق شادی کرنی چاہئے.

دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں .بظاہر جو چیز دور سے خوشنما لگتی ہے ، قریب سے اسکا بھداپن اور بدنمائی واضح ہوجاتی ہے. وقتی خوشی اور مسرت کے بجائے انسان کو دائمی خوشیوں اور مسرتوں کی تمنا اور دعا کرنی چاہئے اور اسکے لئے کوششیں بھی کرنی چاہئے.سراب کے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت، توانائیاں اور دین و ایمان تباہ کرنے کی بجائے حقیقتوں کے سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کے شر اور دھوکوں سے بچنا چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہمرکاب بنیں اور پرسکون زندگی میسر آئے.

ممبرز اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھ سمیت سارے بہن بھائیوں کو دین کا صحیح علم اور فہم عطا کرے اور وہ اپنے فارغ اوقات کو مثبت انداز میں صرف کریں اور انٹر نیٹ کے منفی استعمال سے بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں اور انکی اسلامی سائٹس کی جانب راہنمائی کریں۔

آمین