Saturday, September 6, 2014

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی

آئن سٹائن اور اُس کی بیوی:
--------------------------------

دنیا کا ذہین ترین انسان آئن سٹائن بچپن میں دماغ طور پر ایک کمزور انسان تھا، اُس کا سر موٹا اور زبان بولنے کی صلاحیت سے محروم تھی، بڑی مشکل سے کچھ الفاظ اٹک اٹک کر بولتا تھا جو بعض اوقات اُس کی ماں کو بھی سمجھ نہیں آتے تھے، کہا جاتا ہے کہ آئن سٹائن ’’آٹزم‘‘ کی بیماری میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں گم رہتا تھا اوراپنے معمولات میں کسی کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا تھا،9 سال کی عمر تک وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم رہا، تب اچانک ایک دن کھانے کی میز پر جب اُس کے سامنے سوپ رکھا گیا تو اُس نے سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا’’سوپ بہت گرم ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس کے والدین اچھل پڑے، خوشی سے بے حال ماں نے آئن سٹائن سے پوچھا کہ ایسے الفاظ تم نے کبھی پہلے کیوں نہیں بولے؟؟؟آئن سٹائن کا جواب تھا ’’اِس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی اس لیے میں نہیں بولتا تھا‘‘۔اُس نے دوسری شادی مالیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا،آئن سٹائن کے کمرے ، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتوچیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو، بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا اورآخری شرط یہ تھی کہ ہمارے درمیان کچھ ضروری تعلقات کے علاوہ اور کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔ !!!ماشاء اللہ! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔

بیوی: آئن۔۔۔ وے آئن۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔ کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔ جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔ تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔ آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع دور۔۔۔ جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔ نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔ سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ ہائے۔۔۔ شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔ اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔ !!!
بیوی: عورت اگر واہیاتی پر اُتر آئے تو ورلڈ ریکار ڈ بنانے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہے؟
آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔ ایسے سوال مت پوچھو، میں آئن سٹائن ہوں، وینا ملک نہیں۔۔۔ !!!
بیوی: وے یہ تو بڑا آسان سا سوال تھا۔۔۔ چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔ روندا سائنس نوں۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔ پلیز جان۔۔۔ اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے

میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ۔۔۔ جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔ !!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔ !!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ ایسے تو نہ کہو۔۔۔ میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔ !!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔ وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔ تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔ وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔ یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔ میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔ !!

بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔ تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کروں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔ میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ توہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔ آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔ !!!

'' بھلائی کے کام آدمی کو بری موت سے بچاتے ہیں۔''

سعودی عرب کے رہائشی ایک شخص نے خواب دیکھا کہ ایک شخص اس سے کہہ رہا تھا اس فون نمبر پر رابطہ کرو اور فلاں شخص کو عمرہ کراوٴ۔ فون نمبر بڑا واضح تھا۔ نیند سے بیدار ہوا تو اسے خواب اچھی طرح یاد تھا مگر اس نے وہم جانا اور خواب کو نظر انداز کردیا۔ تین دن مسلسل ایک ہی خواب نظر آنے کے بعد وہ شخص محلے کی مسجد کے امام کے پاس گیا اور اسے بتایا: امام مسجد نے کہا فون نمبر یاد ہے تو پھر اس شخص سے رابطہ کرو اور اسے عمرہ کروا دو۔
اگلے روز اس شخص نے خواب میں بتلایا ہوا نمبر ڈائل کیا ، جس شخص نے فون اٹھایا اس سے ضروری تعارف کے بعد اس نے کہا: مجھے خواب میں کہا گیا ہے کہ میں تمہیں عمرہ کرواوٴں ، لہذا میں اس نیک کام کی تکمیل کرنا چاہتا ہوں ۔ جس آدمی کو اس نے فون کیا وہ زور سے ہنسا اور کہنے لگا کونسے عمرہ کی بات کرتے ہو؟ میں نےتو مدت ہوئی کبھی فرض نماز بھی ادا نہیں کی اور تم کہتے ہو کہ تم مجھے عمرہ کروانا چاہتے ہو....!!
جس شخص نے خواب دیکھا تھا وہ اس سے اصرار کرنے لگا۔ اسے سمجھایا کہ ... میرے بھائی ! میں تمہیں عمرہ کروانا چاہتا ہوں ، سارا خرچ میرا ہوگا۔ خاصی بحث اور تمہید کے بعد آدمی اس شرط پر رضامند ہوا کہ ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ عمرہ کرونگا مگر تم مجھے وآپس ریاض میرے گھر لیکر آوٴ گے اور تمام تر اخرجات تمہارے ہی ذمہ ہونگے......
وقتِ مقررہ پر جب وہ ایک دوسرے کو ملے تو خواب والے شخص نے دیکھا کہ واقعی وہ شکل وصورت سے کوئی اچھا انسان نہیں دکھائی دیتا تھا۔ اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ شرابی ہے اور نماز کم ہی پڑھتا ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ یہ وہ ہی شخص ہے جسے عمرہ کرنے کے لئے خواب میں تین مرتبہ کہا گیا...
دونوں شخص مکہ مکرمہ عمرہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ میقات پر پہنچے تو انہوں نے غسل کرکے احرام باندھا اور حرم شریف کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے بیت اللّٰہ کا طواف کیا ۔ مقامِ ابرہیم پر دو رکعت نمازادا کی، صفا و مرہ کے درمیان سعی کی ۔ اپنے سروں کو منڈوایا اور اسطرح عمرہ مکمل ہوگیا۔
اب انھوں نے واپسی کی تیاری شروع کردی ۔ حرم سے نکلنے لگے تو وہ شخص جو بہت کوشش سے عمرہ کرنے پر آمادہ ہوا تھا کہنے لگا: '' دوست حرم چھوڑنے سے پہلے میں دو رکعت نفل ادا کرنا چاہتا ہوں ، نجانے دوبارہ عمرہ کی توفیق ہوتی بھی ہے یا نہیں ۔''
اسے کیا اعتراض ہوتا اس نے کہا: '' نفل پڑھو اور بڑے شوق سے پڑھو۔ اس نے اس کے سامنے نفل ادا کرنے شروع کر دئیے۔ جب سجدہ میں گیا تو اس کا سجدہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا .....
جب کافی دیر گزرگئی تو اس کے دوست نے اسے ہلایا ... جب کوئی حرکت نہیں ہوئی تو اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے ساتھی کی روح حالتِ سجدہ ہی میں پرواز کرچکی تھی....
اپنے ساتھی کی موت پر اسے بڑا رشک آیا اور وہ روپڑا کہ یہ تو حسنِ خاتمہ ہے، کاش ! ایسی موت میرے نصیب میں ہوتی، ایسی موت تو ہر کسی کونصیب ہو،وہ اپنے آپ سے ہی یہ باتیں کر رہا تھا......
اس خوش قسمت انسان کو غسل دیا گیا، اور احرام پہنا کر حرم میں ہی اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہزاروں فرزندان اسلام نے اس کا جنازہ پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی.....
اس دوران اس کی وفات کی اطلاع ریاض اسکے گھروالوں کو دی جاچکی تھی، خواب دیکھنے والے شخص نے اپنے وعدہ کے مطابق اس کی میت کو ریاض پہنچا دیا،جہاں اسے دفن کر دیا گیا....
چند ایام گزرنے کے بعد خواب دیکھنے والے شخص نے اس فوت ہونے والے کی بیوہ کو فون کیا۔ تعزیت کے بعد اس نے کہا : '' میں جاننا چاہتا ہوں کہ تمہارے شوہر کی ایسی کونسی نیکی یا عادت تھی کہ اس کا انجام اسقدر عمدہ ہوا۔ اسے حرمِ کعبہ میں سجدہ کی حالت میں موت آئی.....
بیوہ نے کہا: بھائی تم درست کہتے ہو میرا خاوند کوئی اچھا آدمی نہ تھا۔ اس نے ایک لمبی مدت سے نماز روزہ بھی چھوڑ رکھا تھا۔ اور شراب پینے کا عادی تھا، میں اسکی کوئی خاص خوبی بیان تو نہیں کرسکتی .... ہاں ! مگر اس کی ایک عادت یہ تھی کہ ''وہ ہمارے ہمسایہ میں ایک غریب بیوہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کیساتھ رہتی ہے، ''میرا شوہر روزانہ بازار جاتا تو جہاں اپنے بچوں کے لئے کھانے پینے کی چیزیں لاتا وہ اس بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کیلئے بھی لے آتا، اور اس کے دروازے پر رکھ کر اسے آواز دیتا کہ میں نے کھاناباہر رکھ دیا ہے، اسے اٹھا لو۔ ''
یہ بیوہ عورت کھانا اٹھاتی اور ساتھ میرے خاوند کے لئے دعا کرتی:
'' اللّٰہ تمہارا خاتمہ بالخیر کرے''
قارئینِ کرام اسطرح اس بیوہ کی دعا اللّٰہ تعالٰی نے قبول فرمالی۔ اور اس شرابی کا اتنے عمدہ طریقے پر خاتمہ ہوا کہ اس پر ہر مسلمان کو رشک آتا ہے۔
قارئینِ کرام اس بات کو ہمیشہ یاد رکھئے کہ اللّٰہ کے رسول ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ.....
'' بھلائی کے کام آدمی کو بری موت سے بچاتے ہیں۔''
('دعاوٴں کی قبولیت کے سنہرے واقعات'' سے ماخوذ)

انٹرنیٹ کے زریعے جیون ساتھی چننے والوں کے لئے ایک مختصر تحریر

آج انٹرنیٹ،سٹلایٹ ٹیلیویزن،موبائل فون کا استعمال عام ہے اور ان سب اشیاء تک نوجوان نسل کی پہنچ بہت آسان ہو گئی ہے. ماں باپ نے اپنی اولاد تک ان سب آسائشوں کی فراہمی کو بے حد آسان کر دیا ہے اور پھر مستزاد یہ کہ کسی قسم کی نگرانی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے

کہ انکی اولاد ان زرائع کا کی ساتھ استعمال کر رہی ہے. نتیجہ یہ نکلتا ہے جب بات بگڑ جاتی ہے اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آنکھ تو کھلی مگر بہت تاخیر سے. سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آنے سے کیا فائدہ. سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے سانپ تو واپس آنے سے رہا.

میں نے انٹرنیٹ کے زریعے اخلاقی زوال کے بہت سے قصے پڑھے ہیں جن کا شکار ہونے والی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جنکی بربادی کی داستانیں چیٹنگ، پال ٹاکس وغیرہ جیسی ویب سائٹس سے شروع ہوکرنہ جانے پستی کی کن گھاٹیوں میں اختتام پذیر ہوتی ہیں.

عموما ان چیٹنگ سائٹس پر معصوم بھیڑ کے روپ میں اپنا تعارف کرانے والے جنس پرست نوجوان سادہ اور بھولی بھالی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ اپنے مکروفریب کے جال میں پھانس کر یکایک بھڑیے بن جاتے ہیں اور انہیں موقع ملتے ہی بیدردی سے نوچ کھسوٹ کر تباہی اوربربادی کے تاریک گڑہوں میں دھکیل دیتے ہیں

جہاں اکثر اوقات ان کے لئے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا.اسکے علاوہ ان داستانوں میں ان لوگوں کے لئےبھی ایک سبق موجود ہے جو انٹرنیٹ کے زریعے شادی کرنا چاہتے ہیں.اس میں بہت دھوکے ہوتے ہیں. دوسرے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا شخص یا خاتون جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے متعلق غلط بیانی سے کام لیکر اور حقائق کو چھپا کر شادی کرلیتے ہیں اور جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تو پچھتاوے اور عمر بھر آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا .

اس کا زیادہ تر شکار لڑکیاں ہوتی ہیں.اگر آپ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں تو سامنے والے فریق کے متعلق معلومات مہیا کر سکتے ہیں مگر سرحدوں کے پار بسنے والے کسی بھی ایسے شخص سے متعلق جس سے آپکی جان پہچان صرف انٹرنیٹ پر ہوئی ہے ، درست معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے اور اسی لئے اس چینل کے زریعے ہونے والی شادیاں عموما جلد ہی اپنے منطقی انجام یعنی طلاق پر منتج ہوتی ہیں.

لہذا اس بات سے بھی بچنا چاہیے اور شادی بیاہ کے لئے مروجہ اصولوں کو بروئے کار لانا چاہئے، خصوصا لڑکیوں کو اس قسم کے جال سے بچنا چاہئے اور اپنے ماں باپ کی مرضی اور رضا کے مطابق شادی کرنی چاہئے.

دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں .بظاہر جو چیز دور سے خوشنما لگتی ہے ، قریب سے اسکا بھداپن اور بدنمائی واضح ہوجاتی ہے. وقتی خوشی اور مسرت کے بجائے انسان کو دائمی خوشیوں اور مسرتوں کی تمنا اور دعا کرنی چاہئے اور اسکے لئے کوششیں بھی کرنی چاہئے.سراب کے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت، توانائیاں اور دین و ایمان تباہ کرنے کی بجائے حقیقتوں کے سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کے شر اور دھوکوں سے بچنا چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہمرکاب بنیں اور پرسکون زندگی میسر آئے.

ممبرز اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھ سمیت سارے بہن بھائیوں کو دین کا صحیح علم اور فہم عطا کرے اور وہ اپنے فارغ اوقات کو مثبت انداز میں صرف کریں اور انٹر نیٹ کے منفی استعمال سے بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں اور انکی اسلامی سائٹس کی جانب راہنمائی کریں۔

آمین

Monday, August 25, 2014

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

شفیق میاں آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ انہیں بچوں کے رسالے پڑھنے کا شوق تھا، اس لیے ہر ہفتے اسکول کی لائبریری سے کوئی رسالہ لے آتے۔ جب وہ اسکول کی کتابیں پڑھتے اور ان میں دی ہوئی مشقیں حل کرتے کرتے تھک جاتے تو دماغ تازہ کرنے کے لیے رسالوں سے دل بہلاتے۔
اسکول کے ایک ماسٹر صاحب لائبریری کے انچارج بھی تھے۔ بڑے مہربان اور سلجھے ہوئے آدمی تھے۔ ایک دن شفیق میاں نیا رسالہ لینے لائبریری گئے تو لائبریری انچارج صاحب پوچھ بیٹھے: "میاں شفیق! تم کوئی کتاب کیوں نہیں لے جاتے؟ رسالوں میں تمہیں ایسی کیا چیز بھاتی ہے؟"
شفیق نے ادب سے جواب دیا: "جناب! رسالوں میں طرح طرح کی چیزیں ہوتی ہیں۔ جیسے قصے، کہانیاں، افسانے، نئی نئی پیاری نظمیں، لطیفے، انعامی مقابلے، بزرگوں کی باتیں اور ان کی زندگی کے حالات، مختلف قسم کی دل چسپ معلومات وغیرہ۔ آپ اجازت دیں تو میں ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟"
ماسٹر صاحب نے کہا: "ہاں ہاں کیوں نہیں، پوچھو، ضرور پوچھو، یہ تمہارا حق ہے۔"
شفیق نے کہا: "جناب! کہانیوں میں اکثر خود اعتمادی کا لفظ پڑھنے میں آتا ہے۔ خود اعتمادی ایک انسانی کرشمہ ہے۔ خود اعتمادی کسی شخص یا قوم کا قیمتی جوہر ہے۔ میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ خود اعتمادی کس طرح حاصل کی جاتی ہے؟"
ماسٹر صاحب نے کہا: "بہت اچھا سوال ہے۔ سوال پوچھنے ہی سے علم بڑھتا ہے۔ سوال پوچھنے سے شرمانا نہیں چاہیے۔ خود اعتمادی اپنے آپ پر بھروسا کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کے لیے بڑی ہمت درکار ہوتی ہے۔ خود اعتمادی کا مطلب ہے کہ کسی دوسرے کی مدد کا محتاج نہ ہونا۔ فرض کرو کہ تم الجبرے میں کمزور ہو، ہر سوال مشکل معلوم ہوتا ہے، مدد کے لیے دوسروں کی طرف نظریں اٹھتی ہیں، لیکن اگر تم محنت کرتے اور فارمولے یاد کر لیتے تو یہی مشکل سوال تم خود اعتمادی کے ساتھ حل کر ڈالتے۔ خود اعتمادی حاصل کرنے کے لیے بڑی مستقل مزاجی کے ساتھ محنت کرنی پڑتی ہے۔ محنت اور خود اعتمادی کا مادہ ہر آدمی میں موجود ہوتا ہے۔ بعض لوگ اسے استعمال کرنا سیکھ جاتے ہیں اور بعض لوگ اسے استعمال ہی نہیں کرتے۔میری رائے ہے کہ تم کبھی کبھی دل چسپ کتابیں بھی لائبریری سے لے جایا کرو اور مستقل مزاجی کے ساتھ انہیں پڑھا کرو۔ یہ لو، یہ کتاب لے جاؤ۔ مہم جوئی کی بڑی بہترین کہانی ہے۔ اس میں خود اعتمادی کی بہت سی مثالیں ملیں گی اور یہ اپنے پسندیدہ رسالے کا نیا شمارہ بھی لے جاؤ۔ یہ بتاؤ کہ تم نے میری باتوں سے کیا سمجھا؟"
شفیق نے جواب دیا: "میں نے یہ سمجھا کہ خود اعتماد لوگ دوسروں کے محتاج نہیں ہوتے۔ خود اعتمادی لگاتار محنت سے حاصل ہوتی ہے۔"
لائبریری انچارج صاحب نے کہا: "شاباش! ایک بات یاد رکھو۔ اسکول میں پڑھائی جانے والی کتابوں کے ساتھ ساتھ دوسری اچھی کتابوں کے مطالعے کی عادت بھی ڈالو۔ مطالعے کی عادت زندگی بھر کام آتی ہے۔"

دو سال کا عرصہ چٹکی بجاتے گزر گیا۔ شفیق میاں نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ تعلیم میں ان کا شوق دیکھ کر ان کے والد نے انہیں اپنی کم آمدنی کے باوجود ایک اچھے کالج میں داخل کروا دیا۔ ان کے اپنے علاقے میں کوئی کالج نہیں تھا۔ جس دوسرے شہر کے کالج میں انہیں داخل کیا گیا، اس کا اپنا ہاسٹل بھی تھا۔ ہاسٹل میں داخلہ ضروری تھا۔ شفیق کو ہر مہینے صرف اتنی رقم ملتی جو صرف فیسوں کے لیے ہی کافی ہوتی، مگر شفیق میاں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ انہیں کتابیں خریدنے کے لیے صبر کرنا پڑتا۔ وہ لائبریری سے کتابیں لے کر کام چلاتے۔ یہ بڑا اچھا اتفاق تھا کہ اسکول کے لائبریری انچارج صاحب بھی اس کالج کے لائبریرین بن کر آ گئے تھے۔
دوسرے سال کے امتحان کے بعد شفیق میاں ہاسٹل پہنچے تو والد کا خط ان کا منتظر تھا۔ خط پڑھا تو ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ لکھا تھا: "برخوردار! تم میری مالی حالت سے بخوبی واقف ہو۔ آمدنی کم، کنبہ بڑا۔تمہارے تینوں بھائی اور تینوں بہنیں بھی اسکول جانے لگے ہیں۔ اخراجات میرے قابو سے باہر نکلتے جا رہے ہیں۔ مجھے بہت افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ میں آئندہ یہ معمولی رقم بھی نہیں بھیج سکوں گا، اس لیے مناسب یہ ہے کہ کالج کو خیر باد کہہ کر گھر آ جاؤ۔ انٹرمیڈیٹ تک تمھاری تعلیم ممکن تھی۔ یہاں آ کر کوئی ملازمت کرو اور میرا ہاتھ بٹاؤ۔"
شفیق کو رات بھر نیند نہیں آئی۔ وہ کروٹیں بدلتے رہے۔ اگلے دن لائبریرین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہیں والد کا خط دکھایا اور کہنے لگے: "جناب! کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک طرف والد صاحب کا حکم اور دوسری طرف میں اپنی تعلیم ادھوری نہیں چھوڑنا چاہتا۔ آپ ہی رہبری فرمائیے؟"
ماسٹر صاحب کچھ سوچ کر بولے: "شفیق میاں! یہ تمہارے والد صاحب کی مجبوری ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمہاری ہمت اور مستقل مزاجی کا امتحان ہے۔ زندگی کے ایسے ہی موڑ پر خود اعتمادی جنم لیتی ہے۔"
شفیق میاں بولے: "میرا تو کوئی عزیز بھی اس قابل نہیں کہ میری مدد کر سکے۔"
ماسٹر صاحب بولے: " تو کیا تم اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دو گے؟ کیا تم کسی کی مدد تلاش کرو گے؟ تم نے فارسی کا وہ شعر پڑھا ہے، جس کے معنی ہیں کہ پڑوسی کے بل بوتے پر جنت میں جانا دوزخ میں جانے کے برابر ہوتا ہے۔ خود اعتمادی کا تقاضا ہے کہ محنت کرو، مزدوری کرو، فاقے کرو، مگر تعلیم میں خلل نہ پڑنے دو۔ بزرگوں کا قول ہے "اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔ ہمت مرداں مدد خدا۔ " مردوں کی طرح سینہ تان کر، سر اٹھا کر کھڑے ہوں۔ اپنے آپ کو پہچانو اور اللہ کا نام لے کر قدم آگے بڑھاؤ۔"
شفیق میاں وہاں سے نکل کر ڈاک خانے پر رکے۔ لفافہ خریدا اور خط لفافے میں رکھ کر ایک لیٹر بکس میں ڈال دیا۔ انہوں نے خط میں لکھا تھا: "ابا جان! یہ لکھنے کی اجازت دیجئیے کہ اپنی زندگی کے بارے میں مجھے فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں ہر قیمت پر اپنی تعلیم مکمل کروں گا اور آپ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہو جاؤں گا جب میرے ہاتھ میں اعلیٰ تعلیم کا سرٹیفکیٹ ہو گا۔"
خدا کا کرنا کیا ہوا کہ شفیق میاں کو چند اچھی ٹیوشنز مل گئیں۔ کالج سے کچھ فاصلے پر ایک انگریزی اخبار کا دفتر تھا۔ وہاں پروف ریڈر کی جگہ خالی ہوئی۔ چار پانچ امیدواروں میں مقابلہ ہوا اور شفیق میاں کو چن لیا گیا۔ اب شفیق میاں کی زندگی میں ایک انقلاب آ گیا۔ صبح کالج جاتے۔ سہ پہر میں ٹیوشن پڑھاتے۔ رات آٹھ سے دو بجے تک اخبار کے دفتر میں پروف ریڈنگ کرتے۔
چار سال بعد جب گھر جا کر شفیق میاں نے اپنے والد کے ہاتھ چومے تو ایم ـ اے کی ڈگری شفیق میاں کے ہاتھ میں تھی اور انگریزی اخبار میں اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے تقرر نامہ بھی۔

Thursday, August 21, 2014

اُف! میں پاس ورڈ بھول گیا


password

ذیل میں وہی طریقے قارئین کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں۔ تاہم یہ تراکیب اسی وقت استعمال کیجیے جب آپ اپنے کمپیوٹر کا پاس ورڈ بھلا بیٹھیں۔ ان طریقوں سے کسی دوسرے کا کمپیوٹر کھولنے کی کوشش کرنا جرم بلکہ ڈاکا ڈالنے کے مترادف ہو گا۔

Sunday, August 17, 2014

موبائل فون یا ٹیبلٹ سے پی سی کیسے ایکسس کریں؟

موبائل فون یا ٹیبلٹ سے پی سی کیسے ایکسس کریں؟

آئی پیڈ اور اینڈرائیڈ ٹیبلٹ ونڈوز کے پروگرام کو براہِ راست نہیں چلا سکتے۔ لیکن ان سے آپ پی سی کا ایکسس ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کام کے لیے کئی ایپلی کیشنز دستیاب ہیں۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے آئی او ایس اور اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے ریموٹ ڈیسک ٹاپ کی آفیشیل ایپلی کیشن جاری کی گئی ہے۔
’’مائیکروسافٹ ریموٹ ڈیسک ٹاپ‘‘ ایپلی کیشن آئی پیڈ/آئی فون اور اینڈرائیڈ اسمارٹ فون/ٹیبلٹ کے لیے مفت دستیاب ہے۔ یہ ایپلی کیشن مائیکروسافٹ کا ریموٹ ڈیسک ٹاپ پروٹوکول استعمال کرتے ہوئے ونڈوز سسٹمز کو کنیکٹ کرتی ہے۔

سافٹ ویئر انسٹال اور اپ ڈیٹ کرنے کا سب سے آسان طریقہ



پچھلے دنوں ایک نئے لیپ ٹاپ پر انسٹالیشن کرنا پڑی۔ صرف ونڈوز ہی انسٹال نہیں کرنا تھی بلکہ اس پر ضروری تمام سافٹ ویئر بھی انسٹال کرنا تھے۔ میری عادت ہے کہ ہمیشہ تمام سافٹ ویئر کے اپ ڈیٹڈ یعنی تازہ ترین ورژنز استعمال کرتا ہوں۔ ونڈوز تو انسٹال کر لی لیکن جب سافٹ ویئر کی باری آئی تو اس پر کئی گھنٹے صرف ہو گئے۔ سب سے پہلے تو فائر فوکس اور کروم براؤزر انسٹال کیے کہ ان کے بغیر گزارہ نہیں۔ ویب براؤزر نے انسٹال ہوتے ہی فلیش کا پلگ اِن مانگ لیا۔ فلیش انسٹال کرنے کے بعد مائیکرو سافٹ آفس انسٹال کیا کیونکہ ایم ایس ورڈ اور ایکسل کی سارا دن ضرورت رہتی ہے۔