Saturday, September 6, 2014

انٹرنیٹ کے زریعے جیون ساتھی چننے والوں کے لئے ایک مختصر تحریر

آج انٹرنیٹ،سٹلایٹ ٹیلیویزن،موبائل فون کا استعمال عام ہے اور ان سب اشیاء تک نوجوان نسل کی پہنچ بہت آسان ہو گئی ہے. ماں باپ نے اپنی اولاد تک ان سب آسائشوں کی فراہمی کو بے حد آسان کر دیا ہے اور پھر مستزاد یہ کہ کسی قسم کی نگرانی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتے

کہ انکی اولاد ان زرائع کا کی ساتھ استعمال کر رہی ہے. نتیجہ یہ نکلتا ہے جب بات بگڑ جاتی ہے اور سر پر ہاتھ رکھ کر رونے کا وقت آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ خوابِ غفلت سے آنکھ تو کھلی مگر بہت تاخیر سے. سب کچھ لٹا کہ ہوش میں آنے سے کیا فائدہ. سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹنے سے سانپ تو واپس آنے سے رہا.

میں نے انٹرنیٹ کے زریعے اخلاقی زوال کے بہت سے قصے پڑھے ہیں جن کا شکار ہونے والی لڑکیاں ہی ہوتی ہیں جنکی بربادی کی داستانیں چیٹنگ، پال ٹاکس وغیرہ جیسی ویب سائٹس سے شروع ہوکرنہ جانے پستی کی کن گھاٹیوں میں اختتام پذیر ہوتی ہیں.

عموما ان چیٹنگ سائٹس پر معصوم بھیڑ کے روپ میں اپنا تعارف کرانے والے جنس پرست نوجوان سادہ اور بھولی بھالی لڑکیوں کو آہستہ آہستہ اپنے مکروفریب کے جال میں پھانس کر یکایک بھڑیے بن جاتے ہیں اور انہیں موقع ملتے ہی بیدردی سے نوچ کھسوٹ کر تباہی اوربربادی کے تاریک گڑہوں میں دھکیل دیتے ہیں

جہاں اکثر اوقات ان کے لئے خودکشی کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچتا.اسکے علاوہ ان داستانوں میں ان لوگوں کے لئےبھی ایک سبق موجود ہے جو انٹرنیٹ کے زریعے شادی کرنا چاہتے ہیں.اس میں بہت دھوکے ہوتے ہیں. دوسرے کمپیوٹر پر بیٹھا ہوا شخص یا خاتون جھوٹ کا سہارا لیکر اپنے متعلق غلط بیانی سے کام لیکر اور حقائق کو چھپا کر شادی کرلیتے ہیں اور جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تو پچھتاوے اور عمر بھر آنسو بہانے کے علاوہ کچھ نہیں بچتا .

اس کا زیادہ تر شکار لڑکیاں ہوتی ہیں.اگر آپ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں تو سامنے والے فریق کے متعلق معلومات مہیا کر سکتے ہیں مگر سرحدوں کے پار بسنے والے کسی بھی ایسے شخص سے متعلق جس سے آپکی جان پہچان صرف انٹرنیٹ پر ہوئی ہے ، درست معلومات کا حصول مشکل ہوتا ہے اور اسی لئے اس چینل کے زریعے ہونے والی شادیاں عموما جلد ہی اپنے منطقی انجام یعنی طلاق پر منتج ہوتی ہیں.

لہذا اس بات سے بھی بچنا چاہیے اور شادی بیاہ کے لئے مروجہ اصولوں کو بروئے کار لانا چاہئے، خصوصا لڑکیوں کو اس قسم کے جال سے بچنا چاہئے اور اپنے ماں باپ کی مرضی اور رضا کے مطابق شادی کرنی چاہئے.

دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں .بظاہر جو چیز دور سے خوشنما لگتی ہے ، قریب سے اسکا بھداپن اور بدنمائی واضح ہوجاتی ہے. وقتی خوشی اور مسرت کے بجائے انسان کو دائمی خوشیوں اور مسرتوں کی تمنا اور دعا کرنی چاہئے اور اسکے لئے کوششیں بھی کرنی چاہئے.سراب کے پیچھے بھاگ کر اپنا وقت، توانائیاں اور دین و ایمان تباہ کرنے کی بجائے حقیقتوں کے سامنے رکھتے ہوئے انٹرنیٹ کے شر اور دھوکوں سے بچنا چاہیے تاکہ دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہمرکاب بنیں اور پرسکون زندگی میسر آئے.

ممبرز اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھ سمیت سارے بہن بھائیوں کو دین کا صحیح علم اور فہم عطا کرے اور وہ اپنے فارغ اوقات کو مثبت انداز میں صرف کریں اور انٹر نیٹ کے منفی استعمال سے بچیں اور دوسروں کو بچنے کی تلقین کریں اور انکی اسلامی سائٹس کی جانب راہنمائی کریں۔

آمین

0 comments:

تبصرہ تحریر کریں: